Friday, December 18, 2020

سب انسپیکٹر تاج محمد کورائی

انسانی فطرت کے پیشِ نظر اس دنیا کا تقریباً ہر شخص اپنی ساری زندگی عزت و رتبہ کی تلاش میں مصروف نظر آتا ہے۔ پر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہ واقعی میں اپنا ایک الگ مقام بنا پاتے ہیں۔ اور اُن میں سے بھی پھر چھاننے پڑتے ہیں وہ لوگ جن کو بلندی راس آتی ہے اور وہ اونچائی پہ پنہچنے کے باوجود بھی اپنے ماضی اور اپنے لوگوں کو یاد رکھتے ہیں۔ ایسی ہی انمول شخصیات میں ایک نام سب انسپیکٹر تاج محمد خان کورائی (مرحوم) کا بھی ہے۔
پولیس سروس جیسے بارعب ادارے میں سب انسپیکٹر کے نمایاں عہدے پہ ہونے کے باوجود بھی آپ کی عاجزی قابلِ تحسین تھِی۔ وہ اپنے پورے علاقہ کے لوگوں کو اپنا خاندان مانتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب بھی اُن میں سے کسی نے آپ کو مشکل گھڑی میں آواز دی تو امیری و غریبی سے قطع نظر آپ نے ہمیشہ اُن کی آواز پہ لبیک کہا۔ علاقے کے ساتھ ساتھ آپ نے پولیس سروس میں بھی نہایت انوکھے انداز میں اپنا مقام بناتے ہوئے اپنا اور اپنی قوم کا نام ہمیشہ بلند رکھا۔
آپ اُس گوہرِ نایاب کی طرح تھے کہ جسے ہر کوئی فخر سے اپنے سر پہ سجا لے۔ آپ اپنے نام کی طرح واقعی میں اپنے وسیب کے لوگوں کے لیے ایک تاج تھے۔ اللہ پاک مرحوم کے درجات بلند فرماتے ہوئے انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)۔

Thursday, December 17, 2020

بھنڈی کورائی سے متعلق

 

موضع بھنڈی کورائی ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی میں واقع ایک سرسبز گائوں ہے۔
اگر ہم اِس کے نام پہ نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ نام دراصل دو الفاظ کا مجموعہ ہے؛ "بھِنڈ" اور "کورائی"۔ اِس نام کے پہلے حصے کے حوالے سے سننے میں آیا ہے کہ بھِنڈ دراصل جنگلات کو کہا جاتا ہے۔ اور جب یہ نام رکھا گیا تھا تب اس گائوں کا زیادہ تر حصہ جنگلات پہ مشتمل تھا تو اِس وجہ سے لفظ "بھنڈ" کو بھی اِس جگہ کے نام میں بطور ایک حصّہ شامل کیا گیا(واللّہ اعلم)۔ جبکہ لفظ "کورائی" کی وجہ یہاں رہائش پذیر لوگوں کی قوم ہے جس کا تعلق بلوچ خاندان سے جا ملتا ہے۔ ویکیپیڈیا کے مطابق بلوچ قبیلہ کی بنیاد بارھویں صدی عیسوی میں جلال خان کی جانب سے رکھی گئی۔ جلال خان کے چار بیٹوں میں سے ایک کا نام کوڑا خان تھا۔ اور یہ ہی وہ کوڑا خان ہے جس کے نام کی نسبت سے کورائی قوم جڑی ہوئی ہے۔
ہر گائوں کی طرح اِس گائوں میں بھی پہلے پہل تعلیمی فقدان عروج پہ تھا۔ پھر اللہ پاک نے اِس گائوں کو چند ایسے فرشتہ صفت انسان عطا کیے کہ جنھوں نے تعلیمی شعور کو اجاگر کرتے ہوئے آنے والی نسل کی قسمت بدل کے رکھ دی۔ اُن عظیم خدمت گاروں میں استاد امان اللہ خان صاحب، استاد محمد اسلم صاحب اور استاد سیف اللہ صاحب سرِ فہرست ہیں۔ آہستہ آہستہ یہاں کے لوگوں میں تعلیمی ہم آہنگی پیدا ہوتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ پسماندہ علاقہ ایسے ایسے شاہکاروں کو جنم دیتا گیا جنھوں نے آگے جا کر کئ عظیم قومی عہدے سنبھالے اور اپنے فرائض خوش اصلوبی سے سرانجام دیتے ہوئے ملک و قوم کا نام روشن کیا۔
https://bhindikorai.blogspot.com/